وفا اور قربانی | Wafa or Qurbani

وفا اور قربانی

تحریر: سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس

راہِ فقر دراصل راہِ عشق ہے اور اس راہ میں کامیابی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک طالب اپنی ہر شے کو راہِ حق میں قربان نہیں کر دیتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْن  (سورہ آلِ عمران92)
ترجمہ: تم اس وقت تک بَرُّ (اللہ تعالیٰ) کو نہیں پا سکتے جب تک اپنی سب سے پیاری چیز خدا کی راہ میں قربان نہ کرو۔
سب سے بڑی سنت راہِ حق میں گھر بار لٹا دینا ہے۔ﷲ پاک نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا:
فَلاَ تَتَّخِذُوْا مِنْھُمْ اَوْلِیَآئَ حَتّٰی یُھَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط(النساء 89
ترجمہ: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان میں سے کسی کو اپنا ولی (دوست) نہ بنائیں جب تک کہ وہ راہِ خدا میں اپنا گھر بار نہ چھوڑ دیں۔ 

حضورِ اکرم صلی ﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کے اعلانِ نبوت اور دعوتِ الی ﷲ کے جواب میں جن صحابہ کرامؓ نے لبیک کہا اور دل کی تصدیق کے ساتھ کلمہ طیبہ پڑھ کر ﷲ اور اس کے رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے، ان پر مصائب اور تکالیف کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ جو مومن غریب و نادار اور غلام طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اُن پر پہلے روز سے تشدد کی چکی چلا دی گئی۔ انہیں اتنی شدت سے جسمانی، روحانی اور مالی اذیتیں دی گئیں کہ انسان اس کا تصور کر کے ہی کانپ اٹھتا ہے۔ مگر آفرین ہے صحابہ کرامؓ کی وفا اور قربانی پر کہ ہر قسم کا ظلم و ستم ان کو نہ تو راہِ حق سے ہٹا سکا اور نہ ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وفا میں کوئی کمی آئی۔
جو مومن معاشرہ میں ذی عزت اور صاحب ِ حیثیت لوگ تھے ان کو تحریص و ترغیب کے ذریعے دین ِ حق سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر اکسایا گیا۔ انہیں طرح طرح سے دنیاوی جاہ و مال کے لالچ دیئے گئے مگر جب ان کے پائے استقلال میں ذرا سی بھی لغزش نہ آئی تو انہیں مختلف طریقوں سے ڈرایا دھمکایا گیا۔ ان سے کاروباری اور معاشرتی میل جول بند کیا گیا حتیٰ کہ ایک دور ایسا آیا کہ سارے اہل ِمکہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اور تمام صحابہ کرام رضی  ﷲ عنہم کا سوشل بائیکاٹ کر دیا۔ متواتر تین سال تک مومنین کی یہ جماعت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی معیت میں ’’شعب ابی طالب‘‘ میں اہل ِ مکہ کے سوشل بائیکاٹ کا شکار رہی۔ لیکن قربان جائیے ان کے جذبہ ایمانی پر کہ ہر قسم کی سختیاں ان کے ایمان کو متزلزل نہ کر سکیں اور پھر اہل ِ مکہ کے ظلم و ستم نے ان کی یہ حالت کر دی کہ:

معاش کے ذرائع چھوٹ گئے۔
غربت، مفلسی اور فاقہ کشی نے ان کے گھروں میں ڈیرے ڈال لیے۔
عزیز و اقارب نے ساتھ چھوڑ دیا۔
جسمانی اذیتیں دی گئیں۔ گرم ریت اور کوئلوں پر لٹایا گیا۔
قبیلہ میں سرداریاں اور مراتب چھن گئے۔
مال و دولت جاتا رہا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمان غنیؓ جیسے صحابہ کرامؓ نے اپنا تمام مال و متاع ﷲ کی راہ میں قربان کر دیا۔
پہلے حبشہ کی طرف اور پھر مدینہ کی طرف اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔
ایک وقت ایسا بھی آیا کہ میدانِ جہاد میں باپ اپنے بیٹے اور بیٹا اپنے باپ سے نبرد آزما تھا۔
یہ ساری تکالیف و مصائب صحابہ کرامؓ کے جذبہ ایمان اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے وفا کو متزلزل نہ کر سکے۔ جب بھی اسلام کو قربانی کی ضرورت پڑی صحابہ کرامؓ نے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ کرام رضی ﷲ تعالیٰ عنہم کی تربیت اس انداز میں فرمائی کہ ان کے دِلوں سے محبتِ الٰہی اور عشقِ  رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ وسلم کے سوا ہر محبت کو ختم کر ڈالا۔ ﷲ تعالیٰ کی محبت کی راہ میں جو بھی چیز حائل ہوئی صحابہ کرامؓ نے کمالِ بے نیازی سے اُسے ﷲ کی راہ میں قربان کر ڈالا۔
وفا اور قربانی کی دوسری مثال واقعہ کر بلا ہے:-
سب کو معلوم ہے کہ موت سامنے کھڑی ہے۔
سب کو معلوم ہے کہ امامؓ کے ساتھ موت ہے تو یزید کے پاس دنیا اور زندگی کا آرام ہے۔
امامؓ کا ساتھ دے کر شہادت ملتی ہے تو یزید کا ساتھ دے کر آسائشاتِ دنیا اور زندگی ملتی ہیں۔
عقل کہتی ہے کہ حسینؓ کے ساتھ رہ کر بے بسی کی موت ہے عشق یہ کہتا ہے کہ یہ ’’جاودانی زندگی‘‘ کی ابتدا ہے۔
ایک طرف زندگی ہے۔ دوسری طرف موت ہے۔
راہِ عشق میں ’’وفا اور قربانی ‘‘ کا تقاضا ہے کہ نہ تو وفا میں لغزش آئے اور جب قربانی کا وقت آئے تو منہ نہ موڑا جائے۔
اور امام عالی مقامؓ کے تمام ساتھی، راہِ عشق کے راہی، وفا کا حق ادا کرنے کیلئے اور وقت ِقربانی ’’قربانی‘‘ کیلئے تیار ہیں۔ عشق یہی کہتا ہے اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ واہ امامؓ آپؓ کو کیا عاشق ملے۔ ایسے عاشق تو کسی مرشد کو نہ ملے۔ ان کی شان ہی نرالی ہے اور ان کی وفا اور قربانی ہی نرالی ہے۔ عشق کی اس بچھی ہوئی بساط پر عقل ہار گئی۔ عشق قربان ہو کر بھی جیت گیا۔ عشق شہادت پاکر اور قید ہو کر بھی جیت گیا۔ عقل بظاہر فتح یاب نظر آئی لیکن عشق نے اپنے دستور کے مطابق عقل کی اس فتح کے اندر ہی اپنی فتح رکھی ہوئی تھی۔ دِل کے اندھے، نورِ بصیرت سے محروم اس فتح کا ادراک نہ کر سکے۔ عشق کی یہ فتح وفا اور قربانی ہی کی بدولت تھی۔ بلکہ ’’عشق‘‘ کا ایک مستقل باب تحریر کر دیا گیا اور عشق و کربلا کا چولی دامن کا ساتھ ہو گیا۔
حضرت ابراہیم بن ادھم رحمتہ ﷲ علیہ نے فرمایا ہے: ’’جب تک تو اپنی اولاد کو یتیم اور اپنی بیویوں کو بیوہ نہیں کر لیتا، خود کو کُتّے کی مانند خاک پر نہیں لٹاتا، اپنے گھر بار کو راہِ خدا میں خرچ نہیں کر دیتا،لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ   کو اپنا ورد نہیں بنا لیتا،یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗ  (ﷲ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے وہ  ﷲ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں) کے مصداق (ﷲ تعالیٰ سے) ظاہری و باطنی دوستی اختیار نہیں کر لیتا،رَضِیَ ﷲُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ  (ﷲ تعالیٰ ان سے راضی اور وہ ﷲ تعالیٰ سے راضی ہوئے) کا خطاب نہیں پا لیتا تجھ پر تیرا یار جانی کہاں راضی ہوتا ہے۔‘‘ (عین الفقر)

سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
راہِ فقر راہِ عشق ہے اور عشق قربانی کا طلب گار ہے اور اس راہ میں اس وقت تک کامیابی نہیں ہوتی جب تک طالب اپنا سب کچھ اور ہر شے اللہ کی راہ میں قربان نہیں کردیتا۔ اس سلسلہ میں طالب کو صحابہ کرامؓ کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ قربانی اور وفا کی مثالیں سامنے رکھنی چاہئیں کیونکہ طالبانِ مولیٰ کے لئے یہ مثالیں مشعلِ راہ ہیں۔
فقر کی نعمت حاصل کرنے کے لئے اپنا مال، جان اور گھر بار سب داؤ  پر لگا دینا چاہیے پھر صلہ کی امید بھی نہیں رکھنی چاہیے اور نہ ہی غم کرنا چاہیے۔
جنہوں نے زندگی میں ہی اپنا سب کچھ مرشد کے حوالے کردیا وہ حیاتِ جاودانی حاصل کر گئے اور اسی عشق و مستی میں زندگی گزار رہے ہیں۔
قربِ الٰہی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان اپنا گھر بار راہ ِخدا میں قربان نہیں کردیتا اور تکالیف و مصائب میں مرشد کے ساتھ وفا میں ذرا بھی کمی نہیں آتی۔
حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ ﷲ علیہ فرماتے ہیں: ’’جو شخص معرفت ِ فقر کے انتہائی درجے (وصالِ الٰہی) پر قدم رکھ لیتا ہے تولَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْن  کا مصداق بن جاتا ہے اور اپنا سب کچھ راہِ خدا میں صرف کر کے صفاتِ کریمہ اختیار کر لیتا ہے۔‘‘ (کلید التوحید کلاں)
 آپؒ اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:

عاشق عِشق ماہی دے کولوں، نت پھرن ہمیشہ کھِیوے ھُو
جیں جِیندیاں جان ماہی نوں دِتی، او دوہیں جہانیں جیوے ھُو
شمع چراغ جنہاں دِل روشن، اوہ کیوں بالن دِیوے ھُو
عقل فِکر دِی پہنچ نہ کائی باھوؒ، اُتھے فانی فہم کچیوے ھُو

عاشق تو اپنے معشوق کے عشق میں مدہوش ہیں انہیں تو عشق کی لذت نے مدہوش کر رکھا ہے اور جنہوں نے زندگی میں ہی اپنی جان محبوب (مرشد کامل) کے حوالے کر دی وہ زندہ و جاوید ہو گئے۔جن کے دلوں میں عشق ِ اسم ِ اللہ ذات روشن ہو چکا ہو وہ کیوں دوسرے ذکر اذکار میں پڑیں۔ راہِ فقر میں عقل کا کیا کام؟ مقامِ وحدت تک رسائی تو عقل کو فنا کر کے ہی حاصل ہوتی ہے۔ 

عاشق نیک صلاحیں لگدے، تاں کیوں اُجاڑدے گھر نوں ھُو
بال مُواتا بِرہوں والا، نہ لاندے جان جگر نوں ھُو
جَان جَہان سَب بھُل گیونیں، پئی لوٹی ہوش صبر نوں ھُو
میں قربان تنہاں توں باھوؒ، جنہاں خون بخشیا دِلبر نوں ھُو

اگر عاشقوں نے لوگوں کے مشوروں پر عمل کرنا ہوتا تو وہ کبھی اپنا گھر بار راہِ حق میں قربان نہ کرتے اور دل میں عشق کی شمع کو روشن کر کے اپنی جان و جگر کو نہ جلاتے رہتے۔ جب سے دیدار کی لذت سے آشنائی حاصل ہوئی ہے اُن کے ہوش و حواس کھو چکے ہیں۔ میں ان کے قربان جاؤ ں جنہوں نے راہِ عشق میں سر بھی قربان کر دیا اور اپنا خون بھی محبوب کو بخش دیا۔ 

مال تے جان سب خرچ کراہاں، کریئے خرید فقیری ھُو
فقر کنوں ربّ حاصل ہووے، کیوں کریئے دلگیری ھُو
دُنیا کارن دِین ونجاون، کوڑی شیخی پیری ھُو
ترک دنیا تھیں قادری کیتی باھوؒ، شاہ میراںؓ دِی میری ھُو

فقیری جان اور مال کے بدلے خریدنا پڑتی ہے۔ اس لیے فقیری حاصل کرنے کے لیے اپنا مال اور جان سب داؤ پر لگا دینا چاہیے اور چونکہ فقر سے اللہ کی ذات حاصل ہوتی ہے اس لیے جان و مال کا غم بھی نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے کذاب، ناقص اور شیخی خور مرشد بھی موجود ہیں جو مال و متاع کے حصول کے لئے لوگوں کو گمراہ کر کے دین و دنیا دونوں ضائع کر رہے ہیں۔ ترکِ دنیا تو اصل میں قادری کرتے ہیں کیونکہ سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ سلطنت ِ فقر کے شہنشاہ ہیں۔ 

وحدت دے دریا اُچھلے، ہک دِل صحی نہ کیتی ھُو
ہک بت خانے واصل ہوئے، ہک پڑھ پڑھ رہے مسیتی ھُو
فاضل چھڈ فضیلت بیٹھے، عشق بازی جاں لیتی ھُو
ہرگز ربّ نہ ملدا باھوؒ، جنہاں ترٹی چوڑ نہ کیتی ھُو

دریائے وحدت تو کب کا موجزن ہے ایک تُوہی ایسا بدنصیب ہے جس نے اس سے فیض حاصل نہیں کیا۔ مساجد میں ورد وظائف سے پاکیزگی ٔقلب حاصل نہیں ہوتی اس لئے وہاں عبادت و ریاضت کر کے بھی تو حجاب میں رہے گا۔ معرفت ِالٰہی کے لئے کسی مرشد کامل کے در پر سر جھکانا پڑے گا۔ عشق کی بازی کھیل کر کئی فاضل اپنی فضیلت اور مرتبہ قربان کر چکے ہیں۔ وصالِ الٰہی گھر بار لٹائے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ 

ونجن سر تے فرض ہے مینوں، قول قالوا بلیٰ   دا کر کے ھُو
لوک جانے متفکر ہوئیاں، وِچ وحدت دے وڑ کے ھُو
شَوہ دیاں ماراں شَوہ وَنج لیساں، عشق دا تُلّہ دَھر کے ھُو
جیوندیاں شَوہ کسے نہ پایا باھوؒ، جیں لدھا تیں مر کے ھُو

روزِ الست جب سے قالوا بلٰی کا اقرار کیا ہے اس پر ثابت قدم رہنا فرض ہے۔ اس لئے میں وحدت کے دریا میں داخل ہو کر اپنا ازلی عہد نبھا رہا ہوں اور مجھے اس حالت میں دیکھ کر لوگ فکرمند ہو رہے ہیں۔میں نے دریائے وحدت میں تیرنے کے لیے عشق کو بنیاد اور اپنے من و تن کا حصہ بنا لیا ہے اور مجھے یقین ہے عشق مجھے دریائے وحدت کی انتہا تک لے جائے گا۔ زندگی میں وصالِ حق تعالیٰ حاصل نہیں ہوتا اگر کسی نے پایا بھی ہے تو اپنا سب کچھ لٹا کر‘ اپنے آپ کو فنا کر کے پایا ہے۔ 

ہسن دے کے رووَن لیوئی، تینوں دِتا کس دلاسا ھُو
عمر بندے دِی اینویں وِہانی ، جینویں پانی وِچ پتاسا ھُو
سوڑی سامی سٹ گھتیسن، پلٹ نہ سکسیں پاسا ھُو
تیتھوں صاحب لیکھا منگسی باھوؒ، رتی گھٹ نہ ماسا ھُو

اے طالب ِ خام! تو نے  ﷲ تعالیٰ کی محبت اور عشق ہنسی خوشی دے کر دنیا اور عاقبت کا روگ لے لیا ہے۔ بتا تجھے یہ مشورہ اور تسلی کس نے دی کہ تو ایسا خسارے کا سودا کرے اور تیری عمر ہی کیا ہے؟ یہ تو ایسے گزر جائے گی جیسے پانی میں پتاسا گھل جاتا ہے اور تجھے قبر کی تنگ و تاریک کوٹھڑی میں پھینک دیا جائے گا جہاں تو کروٹ بھی نہیں بدل سکے گا یعنی دین بھی گیا، دنیا بھی گئی اور مالک ِ حقیقی تجھ سے ایسا حساب طلب کرے گا جس میں ماشہ اور رتی (ذرہ) بھر کمی بیشی نہ ہو گی تجھے زندگی کے ایک ایک لمحہ کا حساب دینا پڑے گا۔

ہِکی ہِکی پیڑ کولُوں کُل عالم کُوکے، عاشقاں لکھ لکھ پیڑ سہیڑی ھُو
جتھے ڈَھہن رُڑھن دا خطرہ ہووے، کون چڑھے اُس بیڑی ھُو
عاشق چڑھدے نال صلاحاں دے، اُونہاں تار کپر وِچ بھیڑی ھُو
جتھے عاشق پیا تُلدا نال رَتیاں دے باھوؒ، اُتے عاشقاں لذت نکھیڑی ھُو

دنیا دار لوگ ایک ہی دکھ اور تکلیف سے تڑپ اٹھتے ہیں لیکن عاشق لاکھوں دکھ اور درد اپنے سینے میں چھپا کر بھی گلہ و فریاد بھی نہیں کرتے۔ عشق کی کشتی ایسی ہے کہ جس کا راستے میں ہی ڈوبنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے اس لئے لوگ اس میں سوار ہونے سے کتراتے ہیں لیکن عاشق ِ ذات ہر خطرے سے بے نیاز ہو کر اس میں سوار ہو جاتے ہیں۔ عشق کا ذرّہ ذرّہ بارگاہِ حقیقی میں جواہرات اور موتیوں سے قیمتی ہے۔ اتنے قیمتی خزانہ کو حاصل کرنے کے لئے عاشق ہی اپنا سب کچھ داؤ پر لگاتے ہیں۔
قربِ الٰہی اس وقت تک حاصل نہیں ہوتا جب تک انسان اپنا گھر بار راہِ خدا میں قربان نہیں کر دیتا اور تکالیف و مصائب میں مرشد کے ساتھ وفا میں ذرا بھی کمی نہیں آتی۔
(نوٹ: یہ مضمون سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس کی تصنیف ِ مبارکہ شمس الفقرا سے شکریہ کے ساتھ شائع کیا جا رہا ہے۔)

38 تبصرے “وفا اور قربانی | Wafa or Qurbani

اپنا تبصرہ بھیجیں