باب العلم ،مولودِ کعبہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ |Bab e iLm, Molod e Kaba Amir ul Momineen Hazrat Ali

باب العلم ،مولودِ کعبہ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ

تحریر: فائزہ سعید سروری قادری

ابو الحسن حضرت علیؓ ابن ابی طالب 13 رجب المرجب بروز جمعتہ المبارک مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ آپؓ پیغمبر ِ خدا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ حضرت عثمانِ غنیؓ کی وفات کے بعد آپؓ 656 ء سے 661 ء تک مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ رہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضرت ابو طالب بن عبدالمطلب اور فاطمہؓ بنت ِ اسد بن ہاشم کے بیٹے اور نجیب الطرفین ہاشمی ہیں۔

ولادت باسعادت

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پیدائش کے متعلق روایت ہے کہ آپؓ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہؓ بنت ِ اسد بن ہاشم خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھیں کہ دردِ زہ شروع ہو گیا۔ اسی وقت کعبہ کی دیوار شق ہوئی جو کسی اور کو نظر نہ آئی۔ آپؓ کی والدہ خانہ کعبہ میں داخل ہو گئیں اور وہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ولادت ہوئی۔ بعد ازاں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ان کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈالا، اپنی زبان چوسنے کے لیے ان کے منہ میں ڈالی اور ان کا نام علیؓ منتخب فرمایا۔

پرورش

حضرت ابوطالبؓ کثیر العیال تھے یعنی آپ کا کنبہ بڑا تھا اور مالی حالت کمزور تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد اپنے چچا حضرت عباسؓ کے ساتھ صلاح و مشورہ کر کے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی پرورش کا ذمہ لے لیا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والدین یعنی اپنے چچا حضرت ابو طالبؓ اور چچی حضرت فاطمہؓ بنت ِاسد سے بہت اُنسیت تھی کیونکہ حضرت عبدالمطلب کی وفات کے بعد ان دونوں نے بڑی محبت اور جانثاری سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی پرورش کی۔ جب حضرت فاطمہؓ بنت ِاسد کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں اپنے کرتے کا کفن پہنایا اور ان کی میت کے سرہانے کھڑے ہو کر فرمایا:
’’اے میری ماں! اللہ آپ پر رحم کرے۔ آپ میری ماں کے بعد ماں تھیں۔ آپ کو خود لباس کی ضرورت ہوتی تھی لیکن آپ مجھے پہناتی تھیں۔ آپ کو خود کھانے کی ضرورت ہوتی تھی لیکن آپ مجھے کھلاتی تھیں۔‘‘
حضرت علی ؓ کی خوش بختی کے کیا کہنے کہ لڑکپن سے ہی آغوشِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مزے پانے لگے۔
حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بعثت کے وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی عمر دس سال تھی اور وہ کاشانۂ نبویؐ میں ہی پرورش پا رہے تھے اور اس تربیت کے کیا کہنے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود فرمائی ہو۔

القاب و کنیات

آپؓ کے القاب اسد اللہ، حیدر اور مرتضیٰ اور کنیت ابوالحسنؓ اور ابوتراب ہے۔ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مسجد ِ نبویؐ میں تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت علیؓ زمین پر سورہے تھے اور پورا جسم گرد آلود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نہایت شفقت سے مخاطب فرمایا ’’ابوتراب اُٹھو‘‘۔ اس دن سے یہ کنیت مشہور ہو گئی۔ حضرت علیؓ کو اپنی یہ کنیت بہت پسند تھی۔ خانہ کعبہ میں ولادت کے باعث آپؓ کو مولودِ کعبہ بھی کہا جاتا ہے۔

قبولِ اسلام اور اعلانِ حق

حضرت علی کرم ا للہ وجہہ کی عمر ابھی دس سال ہی تھی جب آپؓ نے اسلام قبول فرمایا۔ آپؓ کے قبولِ اسلام کے واقعہ کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کچھ یوں بیان فرماتے ہیں:
 حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک روز اپنے لڑکپن کے مشاغل سے فارغ ہو کر کاشانۂ نبوی ؐمیں حاضر ہوئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ان کی زوجہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا عبادت میں مشغول تھے‘ حضرت علی کرم اللہ وجہہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز ادا کرتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوئے اور جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو پوچھنے لگے ’’آپ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کیا کر رہے تھے؟‘‘
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ہم عبادت کررہے تھے۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ: ’’یہ کیسی عبادت ہے؟‘‘
رسول اللہ: ’’یہ اللہ کا دین ہے۔ اس نے اسے اپنے لیے پسند کیا ہے اور اس کی تبلیغ کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ میں تمہیں اللہ وحدہٗ لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہوں۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ (حیران ہو کر): ’’میں نے پہلے تو کبھی اس دین کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ اس بارے میں میرے لیے کچھ فیصلہ کرنا مشکل ہے۔ میں اپنے والد سے مشورہ کروں گا۔‘‘
رسولؐ اللہ: ’’علی (رضی اللہ عنہٗ)! تمہیں اس بات کا حق حاصل ہے لیکن تم اور کسی شخص سے اس بات کا ذکر نہ کرنا۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے وعدہ کر لیا اور رات کو سو رہے۔ اپنے والد حضرت ابوطالبؓ سے بھی اس بات کا تذکرہ نہ کیا۔ اگرچہ وہ سن ِ بلوغت کو تو نہ پہنچے تھے لیکن سوجھ بوجھ خوب رکھتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے فیضانِ صحبت سے قوتِ امتیاز بدرجہ اتم موجود تھی۔ سوموار کی شام کو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو نماز ادا کرتے دیکھا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی دعوت پر اگرچہ انہوں نے اپنے والد سے مشورہ کرنے کا عندیہ دیا تھا لیکن منگل کی صبح تک وہ دین ِ اسلام کی حقانیت کے قائل ہو چکے تھے اور اس نتیجہ پر پہنچنے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی صداقت اور عظمت ِ کردار نے بڑا کام کیا تھا جو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قلب پر نقش ہو چکا تھا۔ منگل کی صبح وہ خالق ِارض و سماوات کی توحید کا اقرار کر کے مشرف بہ اسلام ہوگئے اور اپنے والد سے مشورہ بھی ضروری نہ سمجھا۔ انہوں نے ابتدا میں اپنے ایمان کو اپنے والد سے پوشیدہ رکھا۔ آخر یہ راز ایک روز اس وقت فاش ہوگیا جب حضرت ابوطالبؓ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو امام الانبیا ؐ کے ساتھ مکہ کی ایک وادی میں نماز ادا کرتے دیکھ لیا۔ پہلے تو وہ عالم ِ حیرانی میں دیکھتے رہ گئے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پوچھنے لگے ’’پیارے بھتیجے! یہ کیا دین ہے جو تو نے اختیار کر لیا ہے؟‘‘
حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’عم ِ محترم! یہ اللہ اور اس کے رسولوں کا دین ہے۔ یہ ہمارے باپ ابراہیم ؑ کا دین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ میرے چچا! آپ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ آپ کو اس دین کی طرف بلاؤں اور اس دین ِحق کو قبول کرنا سب سے بڑھ کر آپ کا حق ہے۔ آپ اسے قبول کریں اور میری مدد بھی کریں۔‘‘
حضرت ابو طالبؓ نے جواب دیا ’’میرے بھتیجے! میں اپنے آباؤ اجداد کے دین کو نہیں چھوڑ سکتا۔ لیکن بخدا! جب تک میں زندہ ہوں کوئی شخص تمہیں تکلیف نہیں پہنچا سکتا۔‘‘
اس کے بعد حضرت ابوطالبؓ نے روئے سخن اپنے بیٹے کی طرف کرتے ہوئے کہا ’’اے علیؓ! انہوں نے تمہیں خیر کی طرف بلایا ہے‘ ان کا دامن مضبوطی سے پکڑے رہنا۔‘‘
اب حضرت علی کرم اللہ وجہہ پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ دین ِاسلام کی پاکیزہ راہوں پر گامزن ہوگئے کیونکہ دل میں والد کی طرف سے جو کھٹکا لگا ہوا تھا وہ ختم ہوگیا۔ (خلفائے راشدین)
تین سال خفیہ تبلیغ کے بعد جب حکم ِ خداوندی کے تحت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اہل ِ مکہ کو کھلی دعوتِ اسلام دی تو ابولہب سمیت تمام لوگ بھڑک اُٹھے اور اول فول بکنے لگے اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے خلاف ہوگئے۔اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ (جو کہ ابھی سن ِ بلوغت کو پہنچے ہی تھے) نے پورے مجمع کے سامنے بلا خو ف و خطر اعلانِ حق کرتے ہوئے فرمایا ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں آپؐ کی مددکروں گا اور جو شخص آپؐ سے جنگ کرے گا میں اس سے جنگ کروں گا۔‘‘
حضرت علی ؓ کی کمسنی اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے لوگ آپؓ کا تمسخر اڑانے لگے لیکن وہ یہ نہ جانتے تھے کہ صحبت ِ مصطفویؐ میں رہ کر ایمان کی جو قوت آپؓ نے حاصل کی اسکا کوئی مقابل نہیں۔ آپ کرم اللہ وجہہ نے اپنے الفاظ کا پاس رکھا اور آخری وقت تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ رہے۔ دشمنانِ اسلام کے خلاف ہونے والے غزوات میں آپ کرم اللہ وجہہ نے نہایت دلیری سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ساتھ دیا۔ جب بھی دشمنانِ اسلام نے سر اُٹھانے کی کوشش کی‘ آپ کرم اللہ وجہہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے شانہ بشانہ مل کر ان کا خاتمہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ مندرجہ ذیل غزوات میں حصہ لیا:
1۔ غزوہ بدر
2 ۔ غزوہ احد
3 ۔ غزوہ خندق
4 ۔ غزوہ خیبر

حضرت علیؓ کا نکاح مبارک

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی خاتونِ جنت حضرت فاطمتہ الزہراؓ جب سن ِ بلوغت کو پہنچیں تو قریش کے اعلیٰ خاندانوں سے رشتہ طلب کیا گیا لیکن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سکوت فرمایا۔ دوسری طرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی اپنی شادی کی عمر کو پہنچ چکے تھے لیکن اپنی مفلوک الحالی کا خیال کرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے اظہار نہ کرسکے تھے۔
حضرت ابو بکر صدیقؓ ،حضرت عمرؓ اور حضرت سعد بن معاذؓ نے مل کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حوصلہ افزائی کی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں عرض کرنے کو کہا تو حضرت علیؓ فرمانے لگے ’’کونسا منہ لے کر جائوں تہی داماں ہوں‘‘۔ صحابہ کرامؓ نے مالی معاونت کا یقین دلایا اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پیش ہونے کے لیے کہا۔ سیّدنا علی مرتضیٰ ؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی درخواست پیش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بہت خوش ہوئے اور پوچھا ’’علیؓ مہر میں دینے کو کچھ ہے‘‘۔ حضرت علیؓ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! آپ میرے حالات سے واقف ہیں۔ میرے پاس تلوار، زرہ اور اونٹنی کے سوا کچھ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’تلوار اور اونٹنی تمہاری ضرورت کی چیزیں ہیں، میں زرہ کے عوض فاطمہؓ کا نکاح تم سے کرنے کو تیار ہوں۔‘‘
حضرت علی کرم اللہ وجہہ زرہ فروخت کرنے گئے تو حضرت عثمان غنیؓ نے مہنگے داموں وہ زرہ خریدی اور پھر وہی زرہ تحفتاً حضرت علیؓ کو واپس کر دی۔ حضرت علی ؓ نے رقم اور زرہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں پیش کر دی۔ اس رقم سے حضرت بی بی فاطمہؓ کی ضرورت کا سامان خریدا گیا اور یوں یہ عظیم الشان شادی انجام پائی۔
انصار و مہاجرین کو مسجد ِ نبویؐ میں جمع کیا گیا اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود ان کا نکاح پڑھایا۔

عشق ِ رسولؐ

سیّدنا علی کرم اللہ وجہہ عشق ِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں سرشار تھے۔ بچپن سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفیق صحبت میں رہنے کے باعث عشق کا شعلہ روح کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچ چکا تھا۔ یہ عشق ہی تو تھا کہ جب ہجرتِ مدینہ کے وقت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی ؓ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ کفارِ مکہ آپ ؓ کو نعوذ باللہ قتل بھی کر سکتے ہیں‘ آپؓ راضی ہوگئے اور فرمانے لگے ’’میں اس بات پر راضی ہوں کہ میری روح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روح کی حفاظت میں کام آجائے اور میرا نفس حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات پر قربان ہو جائے۔ کیا میں زندگی سے بجز اس کے محبت کرسکتا ہوں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں گزرے۔‘‘ (اقتباس از کتاب خلفائے راشدین)
یہ محبت ہی تو تھی کہ ہر غزوہ میں دشمنوں کا دلیرانہ مقابلہ کیا۔ غزوہ احد میں جب یہ افواہ پھیلی کہ نعوذ باللہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شہید کر دیا گیا ہے تو آپ ؓ اپنے حواس کھو بیٹھے۔ اپنی شمشیر سے سامنے آنے والے ہر دشمن کی گردن اڑا دی اور آخر کار جب کفار کے جمگھٹے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گھرا پایا تو جان میں جان آئی اور پروانہ وار لپک کراپنے معشوق کے قریب گئے اور دلیرانہ لڑتے ہوئے تمام کفار کا خاتمہ کیا۔ یہ عشق ہی تو تھا کہ غزوہ خیبر میں مرحب جیسے پہلوان سے بھڑ گئے اور یہ عشق ہی تو تھا کہ وفاتِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد بھی دین ِ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو زندہ رکھنے کے لیے بے شمار جنگیں لڑیں اور ہر طرح کا فیصلہ تعلیماتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے عین مطابق کیا۔ اسی عشق کی وجہ سے ہی رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’علیؓ مجھ سے ہے اور میں علیؓ سے ہوں‘‘۔

عطائے فقر

روایات میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں راہِ فقر کے حصول کی درخواست پیش کی۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس اپنی کتاب خلفائے راشدین میں اس واقعہ کو یوں بیان فرماتے ہیں :
 آپ رضی اللہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا ’’یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم! ہمیں وہ راستہ بتائیے جو خدا تعالیٰ سے بہت قریب اور نہایت افضل اور سہل الوصول ہو۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’اے علیؓ خلوت اور تنہائی میں اپنے اللہ کے ذکر کی مداومت کیا کر۔‘‘ آپ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کی ’’ہم کس طرح ذکر کریں؟‘‘ فرمایا ’’اپنی دونوں آنکھیں بند کر لو اور مجھ سے تین مرتبہ سن اور پھر تو بھی تین مرتبہ سنا۔‘‘ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی آنکھیں بند کر کے بلند آواز سے تین مرتبہ کلمہ طیب ’’لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ‘‘ پڑھا اور آپ رضی اللہ عنہٗ نے سنا۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہٗ نے آنکھیں بند کر کے تین مرتبہ کلمہ طیب پڑھا اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سنا۔ اس روز سے یہ ذکر صوفیا میں جاری ہوگیا۔ (ریحان القلوب۔ شریف التواریخ)
یعنی سب سے پہلے کلمہ طیبہ کی باطنی و حقیقی تلقین آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہٗ کو فرمائی اور توحید کی تعلیم دے کر مرتبہ وحدت پر پہنچایا۔
سیر لاقطاب، شریف التواریخ اور آئینہ تواریخ تصوف میں منقول ہے کہ ایک روز رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی محفل اقدس میں چاروں اصحابِ کبار رضی اللہ عنہم بیٹھے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا کہ ہم کو شب ِ معراج میں جو خرقہ ٔ فقر جنابِ ربانی سے عطا ہوا تھا وہ اگر تم کو پہنایا جائے تو اس کا حق کس طرح ادا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا ’’یا حضرت میں صدق اختیار کروں گا۔‘‘ پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ سے بھی یہی پوچھا‘ انہوں نے عرض کیا ’’میں عدل اختیار کروں گا۔‘‘ پھر یہی سوال حضرت عثمان رضی اللہ عنہٗ سے پوچھا‘ انہوں نے کہا ’’میں حیا اور تحمل کروں گا۔‘‘ پھر جناب حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہٗ سے یہی سوال کیا تو آپ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کیا کہ اگر خرقہ فقر مجھے عطا ہو تو میں اس کے شکریہ میں پردہ پوشی اختیار کروں گا‘ لوگوں کے عیب ڈھانپوں گا اور ان کی تقاصیر سے درگزر کروں گا۔‘‘ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نہایت خوش ہو کر فرمایا ’’اے علی رضی اللہ عنہٗ! جس طرح رضائے مولا و رضائے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) تھی اس طرح سے تونے جواب دیا ہے۔ پس یہ خرقہ تیرا ہی حق ہے‘ اُسی وقت آپ رضی اللہ عنہٗ کو خرقہ فقر پہنایا اور بشارت دی کہ تم شہنشاہِ ولایت ہو اور میری تمام امت کے پیشوا ہو۔‘‘

خلافت

حضرت عثمانِ غنی ؓ کی شہادت کے بعد انصار و مہاجرین نے آپؓ کو بیعت کے لیے مجبور کرنا شروع کیا۔ پہلے تو آپؓ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا ’’میں امیر کے بجائے وزیر بننا بہتر سمجھتا ہوں، تم جس کو منتخب کروگے میں بھی اس کو منتخب کروں گا۔‘‘ لیکن جب یہ دباؤ بے تحاشہ بڑھ گیا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو منصب ِ خلافت قبول کرنا ہی پڑا اور پھر جمعتہ المبارک 28 ذوالحجہ 35 ہجری کے مبارک دن آپؓ نے مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ کے طور پر بیعت لی۔ آپ ؓ نے اپنے دورِ خلافت میں امن و امان اور عدل و انصاف کا خاص خیال رکھا اور جہاں کہیں دشمنانِ دین، خوارجی اور باغیوں نے سر اُٹھانے کی کوشش کی آپ نے نہایت دلیری سے ان کا مقابلہ کیا اور ان کو شکست دی۔

سیر ت و کردار

اس عظیم الشان شخصیت کی سیرت و کردار کا کیا بیان ہو جس کی پرورش خوداستادِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمائی ہو۔ دو عالم میں پائے جانے والی ہر خوبی مولا علیؓ میں پائی جاتی تھی۔

شجاعت

آپ ؓ نہایت بہادر تھے۔ آپ ؓ مد مقابل کے رتبہ، بہادری اور حالات کی سنگینی پر نظر ڈالے بغیر حق اور اسلام کی فتح اور دشمنانِ اسلام کے سر کچلنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے۔ آپ ؓ کے وصف ِ شجاعت کی وجہ سے ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انہیں حیدرِ کرار کے لقب سے نوازا اور آپ ؓ کی شمشیر کو ذوالفقار کا خطاب دیا۔

علم و فضل

بے پایاں شجاعت کے ساتھ ساتھ علم و ادب میں بھی پورے عرب میں آپ ؓ کا کوئی ثانی نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی ؓ کے لیے فرمایا’’میں علم کا شہر ہوں اور علیؓ اس کا دروازہ ہیں‘‘۔ حافظ ِ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن کے معانی و مطالب پر بھی عبور حاصل تھا۔ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو بھی قرآن و سنت کی روشنی میں حل کر لیتے تھے۔ فن ِ تقریر میں ماہر تھے اور شعرو شاعری سے بھی لگاؤ تھا۔ آپؓ کے اشعار حکمت و دانش مندی کا خزانہ ہیں۔ آپؓ کے خطبات، خطوط اور اقوال پر مبنی تصنیف نہج البلاغہ کا ایک ایک حرف آپؓ کے علم و فضل، کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ترکِ دنیا

آپ کرم اللہ وجہہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا میں دل نہ لگایا اور نہ ہی ان لوگوں کو پسند کیا جو دل میں دنیا کی محبت رکھتے تھے۔ آپ ؓ کا ایک مشہور قول ہے ’’دنیا مردار ہے اور جو اسے حاصل کرنا چاہتا ہے اسے کتوں کی صحبت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ‘‘
شب بیداری اور عبادت و ریاضت آپؓ کی زندگی کا اہم مقصد تھا۔ اسکے علاوہ مہمان نوازی، عفوو درگزر، سخاوت،امانت و دیانت، رحم اور شفقت آپ ؓ کی شخصیت کا خاصہ تھے۔

شانِ شیر ِ خدا

1 ۔ آپ کرم اللہ وجہہ پہلے بچے تھے جو اسلام لائے۔
2۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہے ’’جس کا میں مولا ہوں اس کا علیؓ مولا ہے۔‘‘
3 ۔ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی سب سے لاڈلی بیٹی اور خاتونِ جنت سلطان الفقر اوّل حضرت بی بی فاطمتہ الزہراؓ سے ان کا نکاح پڑھوایا۔
4 ۔ حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا ’’تجھ سے محبت کرنے والا مجھ سے محبت کرنے والا ہے اور تجھ سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہے۔‘‘
5 ۔ حدیث ِ مبارکہ ہے ’’علیؓ اور قرآن کا چولی دامن کا ساتھ ہے یہ دونوں کبھی بھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے۔‘‘ (طبرانی)
6 ۔ آپ ؓ کے علم و فصاحت کی بنا پر ’’باب العلم‘‘ کے لقب سے نوازا گیا۔

شہادت

نہروان کی جنگ کے بعد بچ جانے والے کچھ خارجیوں نے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قتل کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے ایک مصری آدمی ابن ِ ملجم کو اس کام پر آمادہ کیا۔ ابن ِ ملجم کوفہ گیا اور شبیب اور وردان نامی دو آدمیوں کو اپنی چکنی چپڑی باتوں میں الجھا کر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے قتل پر آمادہ کیا۔ جمعہ 17 رمضان المبارک کو یہ دونوں مسجد میں چھپ کر بیٹھ گئے۔ فجر کے وقت جب حضرت علیؓ مسجد میں داخل ہوئے تو شبیب نے پہلا وار کیا جو کہ چوک گیا۔ اگلے ہی لمحے مردود ابن ِ ملجم نے بڑھ کر پیشانی پر وار کیا۔ وردان اس دوران بھاگ کھڑا ہوا ۔ شبیب بھی فرار ہونے میں کامیاب ہوا جبکہ ابن ِ ملجم گرفتار ہو گیا۔
حضرت علی کرم ا للہ وجہہ کو گھر لایا گیا ۔ آپؓ نے حاضرین سے فرمایا اگر میں بچ گیا تو اس کے ساتھ جو سلوک مناسب سمجھوں گا کروں گا اگر میں جانبر نہ ہوسکا تو تم ا سے اسی طرح قتل کرنا جیسے اس نے مجھے کیا۔
21 رمضان المبارک 40 ھ کو کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے آپؓ نے جان اپنے خالق ِ حقیقی کے سپرد کی۔ آپؓ کا مزار مبارک نجف ِ اشرف (عراق) میں ہے۔

تعلیماتِ باب العلم

1 ۔ تم لوگ دنیا کی محبت کا شکار نہ ہوجانا خواہ وہ تمہیں پوری زیب و زینت کے ساتھ طلب کرے۔
2 ۔کتابِ اللہ پر عمل کرنا اور اللہ کے احکام میں ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈرنا۔
3۔ قربان جاؤں اس خدا پر جو انسان کو دکھ دیتا ہے اس کی برداشت کے مطابق اور خوشی دیتا ہے اسکی اوقات سے بڑھ کر۔
4 ۔گناہ پر ندامت گناہ کو مٹا دیتی ہے نیکی پر غرور نیکی کو تباہ کر دیتا ہے۔

استفادہ کتب:
خلفائے راشدین  تصنیف از سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمٰن مدظلہ الاقدس

اپنا تبصرہ بھیجیں